Man

اِنسان قُدرت کا عجیب یہ ستم ہے! انسان کو راز جو بنایا راز اس کی نگاہ سے چھُپایا بے تاب ہے ذوق آگہی کا کھُلتا

To Abd Al-Qadir

عبدالقادر کے نام اُٹھ کہ ظلمت ہوئی پیدا اُفقِ خاور پر بزم میں شعلہ نوائی سے اُجالا کر دیں ایک فریاد ہے مانندِ سپند اپنی

Sulaima

سُلَیمیٰ جس کی نمود دیکھی چشمِ ستارہ بیں نے خورشید میں، قمر میں، تاروں کی انجمن میں صُوفی نے جس کو دل کے ظُلمت کدے

The Unfaithful Lover

عاشقِ ہرجائی ہے عجب مجموعۂ اضداد اے اقبالؔ تو رونقِ ہنگامۂ محفل بھی ہے، تنہا بھی ہے تیرے ہنگاموں سے اے دیوانۂ رنگیں نوا! زینتِ

Solitude

تنہائی تنہائیِ شب میں ہے حزیں کیا انجم نہیں تیرے ہم نشیں کیا؟ یہ رفعتِ آسمانِ خاموش خوابیدہ زمیں، جہانِ خاموش یہ چاند، یہ دشت

Sicily

صِقلیہ ( جزیرۂ سِسلی) رو لے اب دل کھول کر اے دیدۂ خُوننابہ بار وہ نظر آتا ہے تہذیبِ حجازی کا مزار تھا یہاں ہنگامہ

The Union

وِصال جُستجو جس گُل کی تڑپاتی تھی اے بُلبل مجھے خوبیِ قسمت سے آخر مِل گیا وہ گُل مجھے خود تڑپتا تھا، چمن والوں کو

One Evening

ایک شام ( دریائے نیکر ’ہائیڈل برگ ‘ کے کنارے پر ) خاموش ہے چاندنی قمر کی شاخیں ہیں خموش ہر شجر کی وادی کے

Love

محبّت عروسِ شب کی زُلفیں تھیں ابھی ناآشنا خَم سے ستارے آسماں کے بے خبر تھے لذّتِ رم سے قمر اپنے لباسِ نَو میں بیگانہ

0:00
0:00